عمران خان ابھی وزیراعظم بنے بھی نہیں اور معاملات نے صحیح سمت اختیار کر لی، پاکستان کو چند ہی دنوں میں کتنے کھرب روپے مل گئے ؟

Loading...

کراچی (این این آئی)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتہ زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی اور عام انتخابات کے پیش نظر مختلف زیر گردش اندیشوں کے باعث ہفتے کے پہلے روز مندی رہی لیکن الیکشن کے بروقت اور پر امن انتخابات کے بعد سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری میں گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات غالب رہے اور کے ایس ای100انڈیکس مجموعیطور پر 1565پوائنٹس کے اضافے سے 42ہزار کی نفسیاتی حد کو بحال کرتے ہوئے 42786.54پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ تیزی کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی2کھرب14ارب33کروڑ88لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جس سے سرمایہ کاری مالیت کا مجموعی حجم86کھرب90 ارب54 کروڑ92 لاکھ روپے رہا اور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی عمومی طور پر بہتر رہا ۔اسٹاک ماہرین کے مطابق عام الیکشن کے حوالے سے سرمایہ کاروںمیں مختلف خدشات گردش کررہے تھے جس کی وجہ سے سرمایہ کار سائیڈ لائن رہنے کو ترجیع دیتے رہے اور مخصوص کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرنے پر خریداری کرکے بعد ازاں فروخت کرکے مختصر سرمایہ کاری کے زریعے منافع کمانے تک محدود تھے لیکن 25جولائی کوعام انتخابات کے عمومی طور پر پر امن انعقاداور تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہونے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کا اظہار انہوں نے الیکشن کے بعد زبردست سرمایہ کاری کے زریعے سے کیا ۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 23تا27جولائی پر مشتمل ہفتے میں 25جولائی کو الیکشن کی وجہ سے تعطیل رہی اور کاروباری ہفتہ چار روز پر مشتمل رہا جس کے پہلے روز پیر کو شدید مندی چھائی رہی اور سرمایہ کار الیکشن سے قبل حصص کی فروخت کو ترجیع دیتے نظر آئےجس کے نتیجے میںکے ایس ای100انڈیکس41ہزار کانفسیاتی حد بھی کھوبیٹھا اور757پوائنٹس کی کمی سے40463پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ حصص کی فروخت کا دباؤ بڑھنے سے73.60فی صد کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں جس سے سرمایہ کاروں کوایک کھرب 23ارب40کروڑ6لاکھ روپے کمی ہوئی جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری سرگرمیاںبھی صرف 10کروڑ89لاکھ 99ہزار شیئرزکی لین دین تک محدود رہیںلیکن اس کے برعکس منگل کو زبردست تیزی رہی اور الیکشن سے ایک روز قبل سرمایہ کاروں نے نچلی سطح پر آئی قیمتوں پر حصص کی خریداری کی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 875 پوائنٹس اضافے سے 41339 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیااور 82.47 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیاجس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں ایک کھرب 42 ارب 85 روپے سے زائد کا اضافہ ہوااور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی پیر کی نسبت 75.09 فیصد زائد رہا ۔عام انتخابات کے اگلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میںسرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست گرمجوشی کا مظاہرہ کیا گیا اور انہوں نے کھل کر سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میںزبردست تیزی ریکارڈ کی گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 42ہزار کی نفسیاتی حدبحال ہوگیااور749.94پوائنٹس اضافے سے 42089.16 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیاجب کہ حصص کی خریداری میں دلچسپی بڑھنے کے سبب65.51 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں 99 ارب44 روپے سے زائد کا اضافہ ہوااور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی گذشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت33.26فیصد زائدرہااسی طرح زبردست تیزی کا تسلسل جمعہ کو بھی جاری رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس مزید697.29پوائنٹس اضافے سے42786.54پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ تیزی کے سبب74.48 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں95 ارب44 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا اورحصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت51.57فیصد زائد رہا۔اسٹاک ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتہ بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان غالب رہنے کا امکان ہے ۔

Loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں