24

افسانہ ’گود لی ہوئی ماں‘

ڈاکٹر افشاں ملک:
ناصر دفتر سے لوٹا تو روزانہ کی طرح امّاں عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جائے نماز پر ہی بیٹھی تھیں‘ ہاتھ میں تھمی تسبیح کے اک تواتر سے گرتے دانے ،بند آنکھیں اور بے آواز ہونٹوں کی جنبش بتا رہی تھی کہ کوئی ورد جاری ہے۔ شہلا اپنے کمرے میں اپنی کسی دل چسپی میں مگن تھی اور ملازمہ معمول کے مطابق باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔

ناصر کی شادی کو ایک سال ہونے والا تھا لیکن امّاں نے ابھی تک اس کی بیوی شہلا کو گھر کی ذمہ داریوں سے دور ہی رکھا تھا۔ وہ خود ملازمہ کے ساتھ مل کر بڑی خوش اسلوبی سے گھر چلا رہی تھیں ۔ لیکن ناصر چاہتا تھا کہ اب شہلا گھر کی ذمّہ داریاں سنبھال لے۔ وہ جب بھی امّاں کو ملازمہ کے ساتھ گھر کے کاموں میں مصروف دیکھتا تو بڑی محبت سے کہتا: ” امّاں اب آپ گھرکے کاموں کی ذمّہ داری شہلا کو سونپ کر سبک دوش ہو جائیں ،آرام کریں اور ہم دونوں سے اپنی خدمتیں کروائیں ۔“

ناصر کی اس محبت پر امّاں کی آنکھیں بھر آتیں: ”بس بیٹا‘ رہنے دو ابھی اسے آزاد کچھ دن۔ عمر پڑی ہے کام کرنے کے لیے۔ یہی کچھ دن ہوتے ہیں لڑکیوں کے جب وہ کچھ آزادی محسوس کرتی ہیں۔ بعد میں تو بچوں کی دیکھ بھال اور گھر گرہستی کے کاموں میں گزر جاتی ہے ان کی ساری زندگی اور ملازمہ بھی توہے میری مدد کے لیے بس ذرا نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے سو میں دیکھ لیتی ہوں ۔“

ناصر نے اماں کے اکیلے پن کو دیکھتے ہوئے گھر کے کاموں کے لیے کل وقتی ملازمہ بہت پہلے ہی رکھ لی تھی۔ بھلی اور ایمان دار عورت تھی، کوئی بچہ بھی نہ تھا، شوہر کے انتقال کے بعد بے گھر ہو گئی تھی۔ یوں اسے بھی مخلص لوگ اور ایک چھت میسر آ گئی تھی ۔امّاں اور ناصر اسے گھر کے فرد جیسا ہی سمجھتے تھے۔

ناصر کی دلہن کے روپ میں شہلا امّاں کو بہت اچھی لگتی تھی، وہ اس کی خوب ناز برداریاں کرتیں، اس سے پوچھ پوچھ کر اس کی پسند کے کھانے پکواتیں، کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتیں، سجا سنورا دے کھ کر خوش ہوتیں، ہزاروں دعاﺅں سے نوازتیں اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خوش دیکھ کر مطمئن ہو جاتیں۔ لیکن شہلا عجیب مزاج کی لڑکی تھی اسے نہ امّاں پسند تھیں اور نہ امّاں کی محبت کے انداز بھاتے تھے۔ اسے صرف ناصر پسند تھا بلا شرکت غیرے۔

امّاں کا دل چاہتا کہ شہلا ان کے پاس بیٹھے بات کرے لیکن شہلا ناصر کے دفتر جاتے ہی اپنے کمرے تک محدود ہو جاتی، گھر میں ہوتی تو ٹیلی ویژن پر ڈیلی سوپ اور فلمیں دیکھ کر وقت گزارتی، سہیلیوں سے فون پر باتیں کرتی اورسارا سارا دن یوں ہی اپنے کمرے میں گزار دیتی۔ یا پھر اسے ناصر کے ساتھ باہر گھومنے جانا پسند تھا۔ امّاں کی قربت اسے گوارا نہ تھی۔ شروع کے دنوں میں شہلا کی کم گوئی کو امّاں نے شرم پر محمول کیا لیکن رفتہ رفتہ اس کی بے نیازی انہیں محسوس ہونے لگی۔ جہاندیدہ تھیں، ایسے ہی رویوں کی ستائی ہوئی بھی تھیں سو خاموشی اختیار کرلی۔ ناصر سے بھی کچھ نہ کہا لیکن وہ شہلا کے اس رویے سے بے خبر نہ تھا اورخاموشی سے جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شہلا کسی وقت نہ امّاں کے پاس بیٹھتی ہے نہ ان سے مخاطب ہوتی ہے اور اگر امّاں خود اس سے مخاطب ہوتی ہیں تو لیے دیے انداز میں نپے تلے جواب دے کر خاموش ہو جاتی ہے۔
جب تک ناصر گھر میں رہتا اور امّاں کے پاس بیٹھا ہوتا تو شہلا کو بھی ناصر کی وجہ سے بادلِ نخواستہ امّاں کے پاس بیٹھنا پڑتا لیکن اس کی کوشش یہی رہتی کہ ناصر بھی امّاں سے دور رہے۔ مگردفتر سے لوٹ کرناصرکا امّاں کے پاس بیٹھ کر کچھ وقت گزارنا روزانہ کا معمول تھا اور جب سے شادی ہوئی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ امّاں اور شہلا روزانہ کچھ وقت ساتھ گزاریں ،باتیں کریں۔ شہلا جب تک آکر نہ بیٹھتی ناصر اسے آوازیں دیتا رہتا۔ ناصر کے اصرار پر شہلا وہاں آکر بیٹھ تو جاتی لیکن اس کے چہرے سے بے زاری صاف جھلکتی جسے امّاں کے ساتھ ہی ناصر بھی خوب سمجھتا تھا بلکہ اب تو ملازمہ بھی امّاں کے تئیں شہلا کے اس رویے کو سمجھنے لگی تھی۔
ناصر کی فکر دن بدن بڑھتی جا رہی تھی، وہ ہر حال میں امّاں اور شہلا کے درمیان اچھے تعلقات کا متمنی تھا ۔ ایک طرف شہلا اس کی بیوی جس سے وہ محبت کرتا تھا اوردوسری طرف امّاں تھیں جن کا دل دکھانے کا خیال بھی اس کے لیے سوہانِ روح تھا۔ امّاں سے تواس کا رشتہ ہی بہت انوکھا تھا بلکہ سچ تو یہ تھا کہ ان میں تو کوئی رشتہ ہی نہیں تھا نہ وہ اس کی سگی ماں تھیں نہ سوتیلی وہ تو اس کی منھ بولی ماں تھیں۔ ناصر کے دل میں ان کے لیے بے حد عزت و احترام تھا اوروہ بڑی محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے تھے۔

امّاں اور ناصر کے اس انوکھے رشتے کی کہانی بھی خوب تھی۔ ناصر صحافی تھا اور ایک مشہور ٹی وی چینل میں ریسرچ اور اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبے سے منسلک تھا۔ حالیہ پروجیکٹ کے تحت چینل کی طرف سے اسے ایسے فلاحی اداروں کا سروے سونپا گیا تھا جو عمر رسیدہ، بیوہ اور بے سہارا خواتین کے تحفظ اور فلاح کے لیے کام کر رہے تھے۔ ”آشیانہ“ نام کے ایک غیر سرکاری’ اولڈ ایج ہوم ‘ میں اس کی ملاقات صابرہ خاتون سے ہوئی تھی۔ سروے کے دوران بزرگ اور بے سہارا خواتین کے بہت سے مسائل اور کچھ ایسی تلخ سچائیاں سامنے آئیں جن کا ناصر پر بہت گہرا اثر ہوا۔ وہ بے سہارا اور عمر رسیدہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں تھا، ان اداروں میں انہیں روٹی کپڑے اور ایک محفوظ چھت کے ساتھ ہی بیماری میں دوا علاج بھی اگر میسر تھا تو غنیمت تھا اور وہ اتنی سہولیات ملنے پر مطمئن اور خوش بھی تھیں۔ زندگی کی ڈھلتی شام میں ان کے لیے اتنا بھی بہت تھا۔ مگر ایسی بزرگ خواتین جو اپنوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوکر یہاں پناہ گزین ہو گئی تھیں ذہنی طور پر زیادہ مایوس اور دکھی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنوں کا انتظار جیسے ٹھہر گیا تھا۔ اور کئی کئی برس گزر جانے کے بعد بھی آس کی ڈورکویقین سے تھامے وہ اپنوں کی راہ دیکھ رہی تھیں کہ شاید ان کے دل میں کبھی محبت کا دیا روشن ہو جائے اور وہ انہیں یہاں سے لے جائیں۔ صابرہ خاتون بھی ایک ایسی ہی ماں تھیں جو اپنے بیٹوں کی بے رخی کا شکار ہو کر اس ادارے میں آئی تھیں۔ تفصیلی بات چیت کے دوران انہوں نے ناصر کو بتایا تھا۔

”ان کے دو بیٹے ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امریکہ میں مقیم آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ دو سال پہلے ان کے شوہر کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا اور وہ اکیلی رہ گئیں۔ والد کے گزر جانے کے بعد بچوں نے ان سے رابطہ کیا تسلی دی اور کاروباری مصروفیت کی بنا پر فوری آنے سے معذرت کرتے ہوئے جلد ہی اپنے پاس بلانے کا یقین دلایا۔ مگر دو سال کا عرصہ گزر جانے پر بھی نہ وہ آئے اور نہ ہی مجھے اپنے پاس بلایا۔ شوہر کے گزر جانے کا صدمہ، بڑھتی عمر اور اکیلا پن مجھے اندرہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ ایسے وقت میں مجھے بس اپنے بچوں کا انتظارتھا۔ میرا انتظار بڑھتا جا رہا تھا لیکن نہ وہ خود آرہے تھے اور نہ مجھے اپنے پاس بلا رہے تھے۔ ہاں میرے دونوں بیٹوں کی باقاعدگی سے بھیجی گئی رقم سے میرا بینک بیلنس بڑھتا جا رہا تھا اوران کی بے رخی اور بے اعتنائی سے میرا دل خالی ہوتا جا رہا تھا۔ مجھے ان کے پیسوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ میری خوشی تو اپنے بچوں اور ان کے بچو ں کے ساتھ رہنے میں تھی۔ حالاں کہ میں یہ بھی جانتی تھی کہ وہ اپنا جما جمایا کاروبار چھوڑ کر انڈیا میرے پاس آکر نہیں رہ سکتے لیکن میں تو ان کے پاس جا کر رہ سکتی تھی۔ نہ معلوم وہ خود مجھے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تھے یا ان کی بیویوں کو میرا وہاں ان کے ساتھ رہنا گوارا نہیں تھا۔“

بولتے بولتے ان کا گلا بھر آیا تھا مگر وہ خاموش نہیں ہوئیں شاید آج پہلی بار انھوں نے کسی سے اپنا درد بانٹا تھا۔

”تنہائی اور خاموشی مجھے ڈر انے لگی تھی، میری دل چسپی ہر چیز سے ختم ہوگئی تھی، میرے گھر کا وہ باغیچہ جس میں میرے لگائے ہوئے بیلے اور موگرے کے پھولوں کی مہک سے فضا میں ہر وقت بھینی بھینی سی خوش بو پھیلی رہتی تھی سوکھنے لگا تھا۔ دیسی گلاب کے وہ پودے بھی میری توجہ سے محروم ہو چلے تھے جن پر کھلنے والے پیازی رنگ کے پھولوں کی مہک سے میری روح تک معطّر ہو جایا کرتی تھی۔ میرے بچوں کا بچپن ان کی معصوم شرارتیں، اچھل کود اور ہنسی کی وہ آوازیں جوگھر کے ہر گوشے میں محفوظ تھیں، تصور میں مجھے اپنا چہرہ دکھا تیں تو میری بے چینی اور بڑھ جاتی۔ اپنے ہی گھر میں ایک بھٹکی ہوئی روح کی طرح میں چکراتی پھرتی۔ تب گھبرا کر میں نے وہ گھر بیچ دیا اور ساری رقم اسی ادارے کو دے دی اور میں خود بھی یہیں آگئی، کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا میرے پاس۔ میں نے سوچا یہاں میرے جیسی اور بھی عورتیں ہوں گی سب مل کر ایک دوسرے کا درد بانٹ لیں گی۔ جب سے یہاں آئی ہوں تنہائی کا احساس کافی حد تک کم ہوگیا ہے مگر دل کا درد کم نہیں ہوتا!“

صابرہ خاتون کی آپ بیتی سن کر ناصر بہت اداس ہو گیا تھا۔ وہ خود بھی اس دنیا میں اکیلا تھا اور اکیلے پن کے درد کو بہ خوبی سمجھتا تھا۔ اس کی ماں اس کی پیدائش کے وقت ہی چل بسی تھی‘جب وہ ایک سال کا تھا تب اس کا باپ بھی ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔ بوڑھی دادی تھی جس نے تین سال کی عمر تک اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا لیکن ایک دن اچانک جب دادی بھی چل بسی تو محلے کا کوئی شخص از راہِ ہمدردی اسے ایک یتیم خانے میں چھوڑ آیا جہاں اس کی پرورش ہوئی۔

ناصر ایک ذہین اور سلجھا ہوا بچہ تھا، اس کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے یتیم خانے کے مہتمم سر فراز علی نے ذاتی طور پراس کی سرپرستی کی ذمّہ داری اپنے سر لے لی اوراس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ناصر نے بھی ان کو کبھی مایوس نہیں کیا، تعلیمی مراحل بہ خوبی طے کیے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے صحافت کو بہ طور کیریئر چنا۔ تین سال پرنٹ میڈیا میں کام کرنے کے بعد ناصر نے الیکٹرانک میڈیا کی طرف رخ کیا اور اس میدان میں بھی اپنی محنت اور لگن سے بہت جلد اپنی شناخت قائم کر لی۔

صابرہ خاتون سے مل کرجب ناصر لوٹا تو اس نے اپنے دل میں ایک مضبوط فیصلہ کرلیا تھا۔ اس نے ایک ہفتے کے اندر ہی ” آشیانہ “پہنچ کر صابرہ خاتون سے دوبارہ ملاقات کی اورنم ناک آنکھوں اور بھرّائی ہوئی آواز میں ان سے اپنی دلی تمنا کا اظہارکر دیا۔

صابرہ خاتون کو اس وقت ناصر ایک معصوم بچہ نظر آیا۔ ایک لمحے کو انہیں محسوس ہوا کہ ایک اونچے پورے مرد کے اندر کا بچہ ماں کی مامتا پانے کے لیے بے قرار ہے۔ پیٹ کی اولاد نے تو آنکھیں پھیر لی تھیں لیکن دو ملتجی غیر آنکھیں ان کے چہرے پر جمی ہوئی ان سے مامتا کی بھیک مانگ رہی تھیں۔ بس وہی ایک لمحہ زخمی مامتا پر جیسے مرہم کا ٹھنڈا پھاہا رکھ گیا، صابرہ خاتون نے ناصر کی خواہش پر ہامی بھردی ۔

ناصر نے ضابطے کے مطابق حلف نامہ جمع کرایا اور صابرہ خاتون کوماں بنا کراپنے گھرلے آیا ۔ دونوں کے بیچ کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک خوبصورت اور مضبوط رشتہ بن گیا۔ ان کو ناصر کے ساتھ رہتے ہوئے دو سال ہو گئے تھے اوراب وہ ناصر کی شادی کر کے ایک ماں کا فرض ادا کرنا چاہتی تھیں۔ ایک دن جب ناصر بہت اچھے موڈ میں ان کے پاس بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا تب انہوں نے اس کی شادی کی بات چھیڑ دی۔

”بیٹا میں چاہتی ہوں تمہاری شادی ہوجائے‘ گھر بس جائے تمہارا۔“

”گھر تو بسا ہوا ہے امّاں!“

”کب اور کیسے؟ “ صابرہ بیگم نے حیران ہو کر ناصر کی طرف دیکھا۔

” آپ کے آجانے سے امّاں‘ ‘ وہ شرارت پر آمادہ تھا۔

”بے وقوف لڑکے‘ میں تیری شادی کی بات کر رہی ہوں۔ “ ناصرکی بات سن کر وہ مسکرائے بغیرنہ رہ سکی تھیں۔

”دیر سے شادی ٹھیک نہیں بچّے۔ اگر تم نے کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہو تو بتاؤ، ورنہ میں کچھ کرتی ہوں۔“

”ارے نہیں امّاں! میں نے کوئی لڑکی وڑکی پسند نہیں کر رکھی‘ بس آپ کو پسند کیا تھا اور لے آیا۔“ وہ بہ دستور مذاق کے موڈ میں تھا اور ہنس رہا تھا لیکن صابرہ خاتون کو سنجیدہ دیکھ کر بول اٹھا ۔”اچھا اچھا ‘ جیسی آپ کی مرضی! لیکن میری ایک شرط ہے کہ شادی آپ کی پسند سے ہوگی اورآپ کو حق ہے جس پر چاہیں قربان کر دیں مجھے‘ اُف بھی نہ کروں گا۔ “

وہ چھیڑنے سے باز نہیں آرہا تھا۔ اس کی رضا مندی مل جانے پر صابرہ خاتون نے سرفراز علی کی بیوی کی مدد سے دو ایک لڑکیاں دیکھیں اور شہلا کو پسند کرکے بہو بنالائیں۔

ناصر کی زندگی میں شہلا بہار بن کر چھا گئی۔ خلوتیں آباد ہوئیں تو زندگی اس کے سامنے ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔ دل میں مسرت اور شادمانی کے موسم اُتر آئے، بشاشت اس کے چہرے سے عیاں ہونے لگی، اس کی زندگی میں اب خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

چند مہینے ہی اچھے گزرے پھر رفتہ رفتہ صابرہ خاتون کے تئیں شہلا کا رویّہ بدلنے لگا۔ اس کی نظروں میں ان کے لیے نہ احترام ہوتا نہ محبت۔ امّاں کو اس طرح نظر اندازکرتے دیکھ کر ناصرکو تشویش ہونے لگی۔ اسے شہلا کے رویے کی وجہ سے اپنے دل میں امّاں سے عجیب سی شرمندگی محسوس ہوتی۔ وہ توتصوّر میں بھی امّاں کو دکھ نہیں پہنچا سکتا تھا۔ زندگی میں ان کے آجانے سے اس نے ماں کی مامتا کو محسوس کیا تھا اور ایک ایسا رشتہ جیا تھا جس کا مزہ اس نے چکھا ہی نہیں تھا، اس کی زندگی کے اتنے بڑے خلا کو صابرہ خاتون نے اپنی بے لوث محبت سے پُر کیا تھا۔ وہ بےچین ہو اٹھا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شہلا سے کھل کر بات کرے گا اور اسے سمجھائے گا۔ امّاں سے اپنے رشتے کی نوعیت بتائے گا۔ ناصر کو یقین تھا کہ شہلا پڑھی لکھی لڑکی ہے احساس دلانے پراپنے رویے پر ضرورغور کرے گی۔ لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی ناصر نے اس سے کھل کر بات کی تو وہ بھی کھل کر سامنے آگئی، دل میں صابرہ خاتون کو لے کر جو غبار بھرا ہوا تھا ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا۔

”ناصر اچھا ہوا تم نے ہی بات چھیڑ دی۔ میں خود تم سے بات کرنے والی تھی۔“

”ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔ اگر امّاں سے تمہیں کوئی شکایت ہو تو مجھے بتاﺅ۔ یوں تووہ تم سے اور مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں سارا گھر سنبھال رکھا ہے انہوں نے پوری طرح آزاد ہو تم۔ وہ اسے احساس دلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن شہلا تو جیسے ناصر کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی اپنی ہی کہے جا رہی تھی۔

”ناصر حیرت ہوتی ہے مجھے تمہاری حرکتیں دیکھ کر۔ تمہارا سارا دھیان صرف امّاں کی خوشی میں ہی رہتا ہے۔ ۔چہرہ پڑھتے رہتے ہو تم ان کا۔ میں تو تمہیں نظر ہی نہیں آتی۔ لوگ سگی ماؤں کی اتنی پرواہ نہیں کرتے جتنی تم اس غیرعورت کی کرتے ہو۔ اور تم کوئی بچّے تو تھے نہیں کہ تمہیں ماں کی اتنی ضرورت تھی کہ اپنی ماں نہیں تھی تو اولڈ ایج ہوم سے ہی ماں کے نام پراٹھا لائے ایک عورت۔“

وہ ایسا زہر اگلے گی ناصر کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ گنگ سا بیٹھا وہ اسے دیکھ رہا تھا مگرشہلا کے ترکش میں ابھی کچھ تیر باقی تھے۔

”تنگ آگئی ہوں میں ان کی دخل اندازی سے۔ ہر وقت نصیحتیں، ہر وقت تاکیدیں، ناصر کو یہ پسند ہے، وہ پسند نہیں ہے۔ ناصر لاابالی سا ہے، اس کی بکھری چیزیں سمیٹ کر رکھ دیا کرو۔ اس کی پسند کی ایک ڈش بنا لیا کرو۔ اس کی الماری ٹھیک کردیا کرو، حد ہوگئی ہے ناصر۔ اچھا یہ بتاﺅ وہ ہوتی کون ہیں مجھ پر اس طرح حکم چلانے والی؟ بس ایک منھ بولا رشتہ ہی تو ہے تمہارے اور ان کے درمیان۔ اور سنو، وہ جس طرح تمہارے اوپر حکم چلاتی ہیں مجھے وہ بھی پسند نہیں ہے۔ تمہیں نہیں لگتا کہ حد پار کر رہی ہیں وہ؟“

”خاموش ہو جاﺅ! اب ایک لفظ بھی آگے مت بولنا۔‘‘ ناصرچیخ پڑا۔ ’’کتنی بے حس ہو تم! جذبات سے عاری عورت۔ اور کیسی تعلیم حاصل کی ہے تم نے کہ ذرا تمیز نہیں ہے تمہیں۔بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، ادب لحاظ سب طاق پر رکھ دیا ہے۔ کبھی سوچا تم نے کہ تمہارا یہ رویّہ کتنا دکھ دیتا ہوگا انہیں؟“

ناصر کے اندر ایک درد سا اتر آیا لیکن شہلا کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی اسے توجیسے اپنے اور ناصر کے درمیان صابرہ خاتون کا وجود برداشت ہی نہیں تھا ۔امّاں کو لے کردونوں کے بیچ سرد جنگ شروع ہو گئی آپس میں بات چیت بھی کم ہو گئی، دونوں کھنچے کھنچے سے رہنے لگے۔ کئی دن یوں ہی گزر گئے۔

امّاں کی وجہ سے ناصر بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا تھا، سو اس نے خود ہی شہلا سے بات کرنے کی پہل کر دی۔ شہلا بھی شاید انتظار میں ہی تھی، اس نے بھی زیادہ نخرے نہیں دکھائے۔ ماحول میں کچھ اچھی سی تبدیلی ہوئی تو ناصر کو بھی سکون کا احساس ہوا اورحالات کے بہتر ہونے کی آس بھی بندھ گئی۔

اس دن جب ناصر دفتر سے لوٹا تو خلافِ معمول شہلا کو اچھے موڈ میں دیکھ کر اسے اطمینان سا ہوا۔ سوچنے لگا کہ شاید شہلا کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں پہنچا تو شہلا کو اپنا منتظر بھی پایا۔ ادھر کافی دنوں سے وہ دیکھ رہاتھا کہ جب وہ بیڈ روم میں آتا تو شہلا اسے سوئی ہوئی ملتی، نہ معلوم سو جاتی تھی یا سوجانے کا ناٹک کرتی تھی۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوگیا۔

’’کیا بات ہے بھئی آج تو تم جاگ رہی ہو، کیا ہمارا انتظار ہو رہا تھا ؟“ اس نے مسکراتے ہوئے شریر انداز میں شہلا کی طرف دیکھا۔

”ہاں ناصر! میں کئی دن سے سوچ رہی تھی کہ تم سے بات کروں لیکن تم ناراض تھے تو میری ہمت ہی نہیں ہوئی۔“ بڑی ادا سے اس نے ناصر کی طرف دیکھا۔

” ہاں تھا تو ناراض۔ تم منا لیتیں۔ میں تو منتظر تھا۔ خیر کوئی بات نہیں میں منا لیتا ہوں تمہیں۔ بتاؤ کیا بات ہے؟“ وہ ماحول کو خوش گوار بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

” ناصر غلطی میری بھی ہے اتنے دنوں میں بھی تم سے دور دور رہی۔“

شہلا کی اس تبدیلی پر ناصرکو حیرانی کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہو رہی تھی۔ و ہ اسے اب اور شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھاوہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ شہلا ماں کے رشتے کی نوعیت کو سمجھ لے ان کی عزت کرے ان سے محبت کرے بس!

”ہاں تم کیا کہنا چا رہی تھیں کہو نہ۔ دل کی بات دل دار سے کہنے میں اتنی شرم؟“ وہ اسے چھیڑ رہا تھا۔ ایک قاتل ادا سے شہلا نے ناصر کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال دیں اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔

”ناصر کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم امّاں کو واپس ’آشیانہ‘ پہنچا دو؟“

Loading...

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں