16

سپریم کورٹ کا پورے کراچی سے تجاوزات15 دن میں ختم کرنے کا حکم

کراچی : سپریم کورٹ نے پورے کراچی سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جوائنٹ ٹیم کو پندرہ دن کی ڈیڈ لائن دے دی، چیف جسٹس نے حکام پر واضح کیا عدالت کا حکم موجود ہے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، تمام فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، امن و امان کی صورت حال سے قانون کے مطابق نمٹا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری مین چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے شہر بھر میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا عدالت کاحکم موجود ہے، کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا تجاوزات کو آپ ختم کرائیں گے اپنا پلان بتائیں؟ جس پر ایڈیشنل آئی جی امیرشیخ نے کہا ہم مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں ۔

میئر کراچی نے بتایا ایمپریس مارکیٹ کا علاقہ ستر فیصد صاف ہوچکا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا صرف ایمپریس مارکیٹ نہیں اطراف بھی صاف کرائیں۔

میئرکراچی نے یقین دہانی کرائی کہ صدر کومکمل طور پرصاف کرائیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ امن و امان کی صورت حال سے قانون کے مطابق نمٹا جائے ، تمام فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، جس پر میئر نے کہا رفاہی ادارے فٹ پاتھوں پرغربا کو کھانا کھلاتے ہیں، انہیں ہٹایاجائے؟ میرے پاس اختیارات نہیں، میجسٹریل پاور نہیں ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا آپ غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے متبادل جگہ دیں۔

ایک موقع پر سینئروکیل نے عدالت کوبتایا کہ بابر غوری اور خالد مقبول صدیقی نے نارتھ ناظم آباد کو بیچ ڈالا تو وسیم اخترنے کہا بابر غوری کیلئے تو بیرون ملک جانا ہوگا ۔

سپریم کورٹ نے شہر بھر سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے جوائنٹ ٹیم کو 15 دن کی مہلت دے دی۔
گذشتہ روز سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے تجاوزات کےخاتمے کیلئے جوائنٹ ٹیم بنانے کا حکم دیتے ہوئے میئر، کنٹونمنٹ، کے ڈی اے اورمتعلقہ محکموں کے سربراہ ، آئی جی سندھ اورڈی جی رینجرزکو طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پہلے ماڈل علاقے کے طور پر صدر کو مکمل صاف کرایا جائے، شہروں کی خوبصورتی کیلئےجو کچھ ہوسکتا ہے، وہ ختم ہوچکا ہے یہاں، اس ملک کو صرف پیسے اور رشوت کی وجہ سے برباد کررہے ہیں، بے ایمانی اور رشوت سے ملک کی جڑوں کو کھوکھلاکررہےہیں۔

Loading...

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں