نواز شریف اڈیالہ جیل سے باہر آ گئے

Loading...

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)میاں نواز شریف اپنی خراب صحت کی وجہ سے پمز ہسپتال منتقل ہونے کے لیے مان گئے، انہیں اڈیالہ سے جیل سے پمز ہسپتال منتقل کرنے کے لیے بکتر بند گاڑی کا استعمال کیا گیا، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کو پمز منتقل کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی صحت بگڑ گئی اورخون میں کلاٹس کی موجودگی پر ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر سی سی یو منتقل کرنے کی تجویز دیدی
جس کے بعد نواز شریف کو جیل سے ہسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے ٗ تاہم سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا گیا جیل ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ سے رابطہ کرکے نواز شریف کی ممکنہ طور پر جیل سے ہسپتال منتقلی کی صورت میں سیکیورٹی اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے پمز ہسپتال اور اڈیالہ جیل سے نوازشریف کو لانے کے لیے تمام ضروری سیکیورٹی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 16 روز مکمل ہوچکے ہیں۔نواز شریف کی صحت بگڑ جانے کے باعث اتوار کو پمز میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور رپورٹ ترتیب دی کہ نواز شریف کے خون میں کلاٹس بن چکے ہیں اور دونوں بازوؤں کی رگوں میں خون کی گردش متاثر ہونے سے میاں نواز شریف کو شدید درد کی شکایت ہے۔جیل ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کے شعبہ کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک نے خون کی رپورٹس دیکھنے کے بعد نواز شریف کو فوری طور پر سی سی یو منتقل کرنے کی تجویز دی ہےاور ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ تاخیر کی صورت میں نواز شریف کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی تجویز اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کی ضرورت ہے جس پر پنجاب حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ پنجاب کی نگراں حکومت نے وزارت داخلہ سے رجوع کر کےسیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مجرم نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سزا دی تھی اور ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کی ہے لہذا سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے سیکیورٹی کے تمام اقدامات مکمل کر لیے ہیں ٗپمز ہسپتال انتظامیہ نے وی وی آئی پی وارڈز میں تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں دوسری جانب نجی ٹی و ی کے مطابق سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے ہسپتال میں منتقل ہونے سے انکار کر دیا ہے جبکہ مریم نواز کی درخواست پر ان کے والد سے ملاقات کرائی گئی ٗ مریم نواز نے اپنے والد کی خیریت دریافت کی اس موقع پر کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدر بھی موجود تھے۔ مریم نواز نے نوازشریف کی طبیعت نا ساز ہونے پر تشویش کا اظہار کیاادھر اڈیالہ جیل کے گردونواح میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا اور میڈیا ٹیموں کو جیل سے 2 کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت کی گئی ۔بعد ازاں جیل ذرائع نے بتایا سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں تاہم نواز شریف کو اپنے معالج ڈاکٹر عدنان کا انتظار تھا جوان سے مشورہ کرینگے ۔ادھر نگران وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کی ای سی جی رپورٹ معمول سے ہٹ کر آئی اس لیے ان کی صحت سے متعلقکسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے۔شوکت جاوید نے کہا کہ نواز شریف معمول کے مطابق چہل قدمی کرتے ہیں تاہم پمز اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔یاد رہے کہ 23 جولائی 2018 کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی خراب صحت کو معمولی قرار دیتے ہوئے پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف کو جیل سے باہرکسی ہسپتال منتقل نہ کیا جائے۔اس وقت ذرائع نے بتایا تھا کہ ظاہری میڈیکل چیک اپ میں نواز شریف کو جیل میں ہی طبی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ نواز شریف کی مختلف ٹیسٹس کی مکمل رپورٹس آنے پر علاج کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا اس سے قبل ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کا جیل میں معائنہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ انہیں دل اور گردوں کے مسائل پیدا ہورہے ہیں جبکہ تجویز پیش کی تھی کہ انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں