5

بیگم کلثوم نواز لال حویلی کیوں گئیں اور پھر لال حویلی سے روتے ہوئے ان کی واپسی کیوں ہوئی؟ شیخ رشید نے ایسا کیا کہا تھا کہ کلثوم نواز رو پڑیں؟ جاوید چودھری کے افسوسناک انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے معروف صحافی، تجزیہ کار و کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے پروگرام میں شیخ رشید اور شریف خاندان کے درمیان اختلاف کی وجہ بننے والا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید اور میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلاف کی وجہ سے یہ واقعہ تھا جب بیگم کلثوم نواز 1999میں تحریک کے سلسلے میں ملاقات کیلئے شیخ رشید سے ملنے ان کی رہائش گاہ لال حویلی گئی تھیں اور واپسی پر روتے ہوئے سیڑھیاں اتری تھیں۔جاوید چودھری کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کیساتھ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ یہی بیگم کلثوم نواز کا واقعہ بنا۔یہ 1999کے واقعات ہیں جب نواز شریف، شہباز شریف اور ان کا خاندان قید ہو گیا تو بیگم صاحبہ نے مسلم لیگ ن کو چلانے کی کوشش کی اور ان کو لیکر آگے بڑھیں۔ اس وقت وہ شیخ رشید سے ملنے کیلئے لال حویلی آئی تھیں اور جب وہاں ان کی شیخ رشید سیملاقات ہوئی تو شیخ رشید نے انہیں کہا کہ آپ کیا تلاش کر رہی ہیں، اب آپ کا خاوند اور بچے باہر نہیں آسکتے، چپ کر کے لاہور بیٹھیں آرام سے، یہ سٹرگل اور تحریک چلانا بند کریں۔ جاوید چودھری کا کہنا تھا کہ وہ لال حویلی کی سیڑھیوں سے روتے ہوئے نیچے اتری تھیں۔ یہ وہ بات ہے جو حسین نواز صاحب نے ایک بار مجھے سے بھی کی تھی اور میاں نواز شریف صاحب نے بھی۔ بچوں کا یہی کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ماں کو زندگی میں صرف ایک بار روتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ موقع لال حویلی کی سیڑھیوں سے اترے ہوئے تھا۔ یہ وہ چیز تھی جس کی وجہ سے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن شیخ رشید کیلئے دروازے بند کر دئیے تھے۔واضح رہے کہ مشرف دور میں اپنے شوہر نواز شریف اور بچوں کے قید کئے جانے کے بعد بیگم کلثوم نواز نے مسلم لیگ ن کی قیادت سنبھالی اور اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر ساری جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئیں جس کے بعد آپ نے ملک کے طول و عرض میں تحریک شروع کر دی جس سے اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف تنگ آگئے تھے اور انہوں نے شریف خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

Loading...

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں