بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ریپ ہونے لگے ایک اور بڑا جنسی سکینڈل منظر عام پر آگیا، تین درجن سے زائد لڑکیوں کے جنسی استحصال میں کون کون شامل نکلا؟

Loading...

مظفر پور (این این آئی)بھارتی ریاست بہار کے ایک حکومتی شیلٹر ہاؤس میں کئی کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیاتی کی گئی ہے۔ اس خبر کے بعد ریاستی حکومت نے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے شہر مظفرپور میں قائم محفوظ شیلٹر ہاؤس میں کم از کم چونتیس ایسی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے،جن کی عمریں سات برس سے اٹھارہ برس کے درمیان ہیں۔ یہ شیلٹر سرکاری نگرانی میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں کو ایک اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے جنسی استحصال کی شکار ہونے والی تقریباً تین درجن کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کی ابتدائی میڈکل رپورٹ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اور نشاندہی پر کم از کم دس مردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا سربراہ بھی ہے، جو اس شیلٹر کے لیے امدادی سامان اور رقوم فراہم کرتا تھا۔ریاستی پولیس کی سینیئر خاتون افسر ہرپریت کور نے مقامی معروف غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ کور کے مطابق تفتیشی عمل جاری ہے اور گرفتاریوں کا دائرہ وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ خاتون پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں کے مقام کو تبدیل کر کے اْن کی بہتر انداز میں نگرانی کی جا رہی ہے۔پولیس نے جنسی استحصال کی شکار ہونے والی تقریباً تین درجن کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کی ابتدائی میڈکل رپورٹ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اور نشاندہی پر کم از کم دس مردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا سربراہ بھی ہے، جو اس شیلٹر کے لیے امدادی سامان اور رقوم فراہم کرتا تھا۔

Loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں