پنجاب کا ایسا ضلع جہاں33 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار ن لیگ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا،حیران کن تفصیلات

Loading...

چکوال(آئی این پی)حالیہ انتخابات میں ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ واضح کر دیا اور ضلع چکوال کی گزشتہ33 سالہ سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ ن کو واضح شکست ہوئی ہے۔ البتہ حلقہ پی پی22پر مسلم لیگ ن کے ملک تنویر اسلم سیتھی کی کامیابی سے مسلم لیگ ن کو کافی آسرہ اور حوصلہ ملا ہے۔ موجودہ واضح تبدیلی کے پس منظر میں مستقبل کا سیاسی منظر نامہ پی ٹی آئی کے حوالے سے مکمل طورپر دھندلا ہے۔پی ٹی آئی کی موجودہ کامیابی میں سردار غلام عباس کا کردار کلیدی رہا ہے اور نو منتخب ایم پی اے سردار آفتاب اکبر نے32ہزار کی واضح برتری سے اپنے حلقے میں کامیابی حاصل کی ہے اور پورے ضلع چکوال کو ایک دفعہ پھر پیغام دیا ہے کہ سرداران کوٹ چوہدریاں کا ضلع چکوال میں 2013کے انتخابات میں جو ڈیڑھ لاکھ ووٹ بینک ریکارڈ پر آیا تھا اس میں اب مزید اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم نہ ہوئی تو پھر شکست کھانے والے مسلم لیگ ن کے امیدواروں میں مزید بے چینی بڑھے گی، پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو پھر ان ہارے ہوئے امیدواروں میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوگا۔ 2013میں میاں نواز شریف کا جو ووٹ بینک ضلع چکوال میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو ملا تھا وہ 2018میں بھی برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے، مسلم لیگ ن کی ضلع چکوال میں شکست کی دو بڑی وجوہات سردار غلام عباس کے علاوہ مذہبی جماعتوں کا ووٹ ہے جو ہمیشہ ماضی میں مسلم لیگ ن کو ملتا آیا ہے مگر اب کی بار وہ تقسیم ہوکر مکمل طور پر علیحدہ ہوا ہے اور یہی دونوں بڑے فرق ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے قلعے میں دراڑیں پڑی ہیں۔ مستقبل قریب میں حلقہ این اے65پر اگر ضمنی الیکشن ہوا تو اس کے بھی سیاسی اثرات ضلع چکوال کی سیاست پر مرتب ہونگے۔ بہرحال صورتحال بڑی دلچسپ ہے۔

Loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں