گالی گلوچ کرنے والے تنگ دل شوہر کے ظلم سے نجات کے لئے وہ روحانی تسبیح جس کو پڑھنے والی خواتین کے گھر برباد ہونے سے بچ جاتے ہیں

Loading...

لاہور(نظام الدولہ ) عام طور پر کوئی بھی مشرقی بیوی اپنے شوہر کی برائی کا چرچا نہیں کرنا چاہتی لیکن جن عورتوں کے مجازی خدا حقیقت میں خدا بن کراپنی بیوی اور بچوں کے رازق اور مالک کہلوانے پر تلے رہیں ،انہیں گالیاں دیں، پیسے پیسے کے ترسائیں اور ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں جبکہ آوارگی ان کا پیشہ ہوتو ایسے مردوں کے ظلم اور جہالت پر بات کرنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک عورت کا حق ہے کہ وہ ایسے مرد کے بارے بات لازمی کرے ۔اس لئے میں بھی اسی وجہ سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہی ہوں کہ میرے شوہر میں یہ ساری برائیاں موجود ہیں۔بس چلتا تو طلاق لے لیتی لیکن میں پانچ بیٹیوں کی ماں ہوں ۔ان کی تعلیم جاری ہے اور ایک آدھ سال میں انکی شادیوں کی عمر ہوجائے گی ۔میرے شوہر غریب نہیں ،اٹھارویں گریڈ میں ایک کالج میں پڑھاتے ہیں اور ٹیوشن بھی پڑھا کر اچھی کمائی کرلیتے ہیں لیکن ذہنی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں ۔مجھے ایسی دعا بتائیں کہ میں اسکا ذکر اور تسبیح کیا کروں تو مجھے سکون بھی ملے اور اسکی برکت سے ہمارے گھر میں امن کی بہار آجائے ۔بہت دعائیں دوں گی ۔(عائلہ ۔لاہور)
جواب ۔آپ نے جن حالات کی طرف اشارہ کیا ہے واقعی عورت کی بے بسی میں زندگی گزارنے کی مثال پیش کرتے ہیں ۔آپ حوصلہ مند خاتون ہیں ۔خدا ایسے مردوں کو قلب سلیم عطا فرمائے جو اللہ کے دئےے کو فرعون بن کر اہل خانہ پر استعمال کرتے ہیں ،انکی ہتک کرتے ہیں۔ایسے مرد یہ نہیں سوچتے کہ ان کی بیٹیا ں اور گھر کی عورتیں اپنی ضرورت کے لئے کس سے مانگیں؟ عورت کی عزت نفس کو مجروح کرنا انتہائی ظلم اور انسانیت سوز جرم ہے ۔کوئی باپ یہ کیسے کرلیتا ہے،سوچ کر ہی کیلجہ منہ کو آجاتا ہے۔پڑھ لکھ کر انسان جاہل کا جاہل ہی رہے گا تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ۔دینی تعلیم تو پھر زیادہ اہمیت کی حامل ٹھہری کہ انسان کے اخلاق کو سنوارتی ہے ۔آپ روزانہ ”یاعزیز یا جبار “ کو تین سو تیرہ بار پڑھ کر دعا کیا کریں ،اللہ نے چاہا تو حالات میں بہتری آجائے گی ۔ (اپنے مسائل کے حل کے لئے اسما الحسنٰی کی روحانی تسبیح حاصل کرنے کے لئے اس ای میل پر ،اپنا پورا نام ،کاروبار،شہر اور مسئلہ لکھ کر بھیجیں nizamdaola@gmail.com )

Loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں